وہ دن، وہ دوست اور بچپن کے یادگار کھیل!
بچپن زندگی کا وہ خوبصورت دور ہے جسے انسان چاہ کر بھی واپس نہیں لا سکتا، لیکن اس دور کی یادیں ہمیشہ دل کے کسی کونے میں زندہ رہتی ہیں۔ وہ پرانی گلیاں، دوستوں کی آوازیں، شام تک کھیلنا، گھر سے بار بار بلانے پر بھی واپس نہ آنا اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جانا۔۔۔ یہ سب آج بھی یاد آئے تو چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔
ایک وقت تھا جب بچوں کے لیے تفریح کا مطلب موبائل فون، انٹرنیٹ یا ویڈیو گیمز نہیں تھا۔ چند دوست، ایک کھلی گلی، ایک چھوٹا سا میدان اور کھیلنے کا جذبہ ہی پورے دن کو یادگار بنانے کے لیے کافی ہوتا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ بچپن کے یادگار کھیل آج بھی ہماری یادوں میں ایک خاص جگہ رکھتے ہیں۔ گلی کرکٹ، کنچے، چھپن چھپائی، گلی ڈنڈا، پٹھو گرم اور دوسرے روایتی کھیل صرف تفریح نہیں تھے بلکہ ہماری دوستی، شرارتوں، ہنسی اور بےفکری کا حصہ تھے۔
بچپن کے وہ دن اتنے خاص کیوں تھے؟
آج کی مصروف زندگی میں جب انسان چند لمحے سکون کے لیے بھی تلاش کرتا ہے تو بچپن کی یادیں خود بخود ذہن میں آ جاتی ہیں۔ اس وقت ہمارے پاس بہت زیادہ چیزیں نہیں تھیں، لیکن خوشیاں بہت تھیں۔
ایک چھوٹی سی گیند، لکڑی کا ٹکڑا، سائیکل یا صرف چند دوست بھی پورا دن یادگار بنانے کے لیے کافی تھے۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی کہ اگلی تفریح کہاں سے آئے گی۔ ہم خود اپنے کھیل بناتے تھے اور خود ہی ان میں خوشیاں تلاش کر لیتے تھے۔
گلی کرکٹ — ہر محلے کا پسندیدہ کھیل
اگر بچپن کے یادگار کھیل کی بات ہو تو گلی کرکٹ کا ذکر کیسے نہ ہو؟ پاکستان کے بےشمار محلوں میں ایسی گلی ضرور ہوتی تھی جہاں شام ہوتے ہی بچوں کی کرکٹ شروع ہو جاتی تھی۔
ایک گیند، چند دوست اور پوری گلی میدان
کبھی اینٹیں وکٹ بن جاتیں، کبھی دروازہ وکٹ کا کام دیتا اور کبھی کوئی پرانی لکڑی بیٹ بن جاتی۔ کھیل کے اصول بھی ہر گلی میں الگ ہوتے تھے۔
کہیں گیند نالی میں چلی جائے تو آؤٹ، کہیں چھت پر چلی جائے تو چھکا اور کہیں گیند پڑوسی کے دروازے پر لگ جائے تو پورا کھیل خطرے میں پڑ جاتا تھا۔
اصل مزہ صرف رنز بنانے یا میچ جیتنے میں نہیں تھا بلکہ دوستوں کے ساتھ بحث، ہنسی مذاق اور دوبارہ کھیل شروع کرنے میں تھا۔
کنچے — چھوٹی سی دنیا، بڑی سی خوشی
کنچے بھی پرانے بچپن کے کھیلوں میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔ رنگ برنگے چھوٹے چھوٹے کنچے بچوں کے لیے کسی قیمتی خزانے سے کم نہیں ہوتے تھے۔
بچے زمین پر دائرہ بناتے، اپنے کنچے ترتیب سے رکھتے اور پھر نشانہ لگانے کی کوشش کرتے۔ ایک اچھا نشانہ لگ جائے تو خوشی ایسی ہوتی جیسے کوئی بہت بڑا مقابلہ جیت لیا ہو۔
کنچوں کی وہ رنگین یادیں
آج شاید بہت سے بچوں نے کنچوں سے کھیلنے کا وہ مزہ محسوس نہ کیا ہو، لیکن پرانی نسل کے لیے کنچے محض ایک کھیل نہیں بلکہ بچپن کی ایک خوبصورت علامت ہیں۔
چھپن چھپائی — چھپنے اور ڈھونڈنے کی خوشی
چھپن چھپائی ایسا کھیل تھا جس کے لیے کسی خاص سامان کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ایک دوست آنکھیں بند کرتا اور باقی سب چھپنے کے لیے مختلف جگہوں کی طرف بھاگ جاتے۔
کوئی درخت کے پیچھے چھپتا، کوئی سیڑھیوں کے نیچے اور کوئی دیوار کے پیچھے۔ سب سے زیادہ مزہ اس وقت آتا جب کھیلنے والا دوست بہت قریب آ جاتا لیکن پھر بھی چھپے ہوئے بچے کو تلاش نہ کر پاتا۔
چھوٹی سی گلی، پوری دنیا
بچپن میں وہی گلی، وہی درخت اور وہی دیواریں کھیل کے دوران ایک نئی دنیا بن جاتی تھیں۔ چند منٹ کی چھپن چھپائی بھی بچوں کے لیے کسی بڑی مہم سے کم نہیں ہوتی تھی۔
گلی ڈنڈا — سادگی میں چھپا دلچسپ کھیل
گلی ڈنڈا برصغیر کے روایتی کھیلوں میں شامل ایک پرانا اور دلچسپ کھیل ہے۔ اس کے لیے کسی مہنگے سامان کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ایک چھوٹی لکڑی اور ایک لمبی لکڑی ہی کافی ہوتی تھی۔
بچے کھلی جگہ تلاش کرتے، اپنی باری کا انتظار کرتے اور پھر پوری طاقت سے گلی کو ڈنڈے سے اچھالنے کی کوشش کرتے۔ ایک اچھا شاٹ لگ جائے تو دوستوں کی خوشی دیکھنے والی ہوتی تھی۔
پٹھو گرم — کھیل، دوڑ اور ٹیم ورک
پٹھو گرم بھی بچپن کے ان کھیلوں میں شامل تھا جن میں جسمانی سرگرمی کے ساتھ ساتھ ٹیم ورک بھی سیکھنے کو ملتا تھا۔
چند پتھر ایک دوسرے کے اوپر رکھے جاتے، گیند سے انہیں گرایا جاتا اور پھر دوسری ٹیم کے آنے سے پہلے انہیں دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کی جاتی۔
کبھی کوئی دوست بہت تیزی سے بھاگتا، کبھی گیند دور چلی جاتی اور کبھی پوری ٹیم ایک دوسرے کو آوازیں دیتی رہتی۔ کھیل ختم ہونے کے بعد بھی ہنسی مذاق جاری رہتا تھا۔
بچپن کے دوسرے یادگار کھیل
بچپن صرف کرکٹ، کنچوں یا گلی ڈنڈا تک محدود نہیں تھا۔ مختلف علاقوں میں بچے کئی دوسرے روایتی کھیل بھی کھیلتے تھے۔
لنگڑی ٹانگ
لنگڑی ٹانگ میں دوڑ، توازن اور مقابلے کا خوبصورت امتزاج ہوتا تھا۔ ایک ٹانگ پر اچھلتے ہوئے دوسرے کھلاڑیوں کو چھونا بچوں کے لیے خاصا دلچسپ تجربہ ہوتا تھا۔
پکڑن پکڑائی
پکڑن پکڑائی کے لیے کسی سامان کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ صرف چند دوست اور کھیلنے کے لیے تھوڑی سی جگہ کافی تھی۔
رسہ کشی
رسہ کشی خاص طور پر گروپ میں کھیلا جانے والا کھیل تھا۔ سب اپنی پوری طاقت لگاتے اور آخر میں جیتنے والی ٹیم خوشی سے شور مچاتی۔
پرانے کھیل اور ان سے جڑی یادیں
| کھیل | کیا چیز یاد آتی ہے؟ | خاص بات |
|---|---|---|
| گلی کرکٹ | دوست، محلے کی شامیں اور مقابلہ | ہر گلی کا اپنا اصول |
| کنچے | رنگ برنگے کنچے اور نشانہ بازی | سادہ مگر دلچسپ کھیل |
| چھپن چھپائی | چھپنے اور دوستوں کو ڈھونڈنے کی شرارت | کسی سامان کی ضرورت نہیں |
| گلی ڈنڈا | روایتی کھیل اور مقابلہ | سادہ سامان |
| پٹھو گرم | دوڑ، ہنسی اور ٹیم ورک | گروپ میں زیادہ مزہ |
| لنگڑی ٹانگ | ہنسی اور جسمانی سرگرمی | توازن اور رفتار |
وہ دوست جن کے بغیر کھیل ادھورا تھا
بچپن کے کھیلوں کی اصل خوبصورتی کھیل نہیں بلکہ وہ دوست تھے جن کے ساتھ یہ کھیل کھیلے جاتے تھے۔ کوئی ہمیشہ کپتان بنتا، کوئی سب سے زیادہ تیز دوڑتا اور کوئی ہر کھیل میں اپنے لیے نئی ٹیم بنانا چاہتا تھا۔
کبھی معمولی سی بات پر لڑائی بھی ہو جاتی، ایک دوست ناراض ہو کر گھر چلا جاتا اور کچھ ہی دیر بعد دوبارہ اسی گلی میں کھیل رہا ہوتا۔
بچپن کی دوستی میں ناراضی بھی عارضی تھی اور خوشی بھی سچی۔
بچپن کی دوستی کی چند خوبصورت یادیں
- شام ہوتے ہی دوستوں کو کھیلنے کے لیے بلانا۔
- ٹیم بنانے پر بحث کرنا۔
- ہارنے کے بعد دوبارہ میچ شروع کرنا۔
- گھر سے بلانے پر "بس پانچ منٹ اور" کہنا۔
- کھیل کے دوران ہنسنا اور ایک دوسرے سے شرارت کرنا۔
- چھوٹی سی جیت کو بھی بڑی کامیابی سمجھنا۔
جب کھیل ختم ہونے کا نام نہیں لیتے تھے
بچپن میں وقت جیسے تیزی سے گزرتا تھا۔ شام شروع ہوتی اور ہمیں لگتا کہ ابھی تو کھیل شروع کیا ہے۔ پھر گھر سے آواز آتی:
لیکن ہمارا جواب تقریباً ہمیشہ ایک ہی ہوتا تھا:
وہ پانچ منٹ کبھی پانچ منٹ نہیں ہوتے تھے۔ کھیل تب تک جاری رہتا جب تک اندھیرا نہ ہو جاتا یا گھر سے دوسری، تیسری اور پھر قدرے سخت آواز میں نہ بلایا جاتا۔
آج کے بچوں اور اُس وقت کے بچپن میں فرق
آج بچوں کے پاس تفریح کے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔ موبائل فون، ویڈیو گیمز، سوشل میڈیا اور آن لائن ویڈیوز چند لمحوں میں تفریح فراہم کر دیتے ہیں۔
دوسری طرف ماضی میں بچے گھر سے باہر نکلتے، دوستوں سے ملتے، گلیوں میں کھیلتے اور جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔
دونوں ادوار کے اپنے اپنے حالات اور سہولتیں ہیں، لیکن پرانے بچپن کے کھیل ہمیں ایک ایسی اجتماعی یاد دلاتے ہیں جس میں محلہ، دوست، گلی اور کھیل سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔
ٹیکنالوجی کے دور میں پرانی یادوں کی اہمیت
ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے، لیکن پرانے کھیلوں کی یادیں ہمیں یہ ضرور یاد دلاتی ہیں کہ خوشی ہمیشہ مہنگی چیزوں سے نہیں ملتی۔
کبھی کبھی چند دوست، کھلی جگہ، ایک گیند اور تھوڑا سا وقت ہی ایک پورے دن کو یادگار بنا دیتا ہے۔
وہ چیزیں جو آج بھی بچپن یاد دلاتی ہیں
کبھی کسی پرانی گیند کو دیکھ کر، کبھی سائیکل کی گھنٹی سن کر، کبھی محلے کی پرانی گلی سے گزرتے ہوئے اور کبھی کسی بچے کو گلی میں کرکٹ کھیلتے دیکھ کر اچانک کئی سال پرانی یادیں واپس آ جاتی ہیں۔
ایک منظر اور پوری یاد واپس
بعض اوقات کسی دوست کی آواز، کسی پرانے کھیل کا نام یا کسی مخصوص گلی کا منظر ذہن میں بچپن کی پوری تصویر بنا دیتا ہے۔
یہی یادوں کی خوبصورتی ہے؛ وقت گزر جاتا ہے لیکن احساس کہیں نہ کہیں باقی رہتا ہے۔
کیا وہ بچپن دوبارہ آ سکتا ہے؟
شاید وہی وقت دوبارہ واپس نہ آئے۔ وہی دوست ہر روز ساتھ نہ ملیں اور وہی گلیاں بھی بدل چکی ہوں، لیکن ان یادوں کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔
آج بھی بچوں کو باہر کھیلنے کے مواقع دیے جا سکتے ہیں۔ خاندان اور محلے میں روایتی کھیلوں کی سرگرمیاں منعقد کی جا سکتی ہیں۔
اس طرح نئی نسل بھی جان سکے گی کہ تفریح صرف اسکرین کے اندر موجود نہیں بلکہ ایک کھلی گلی، چند دوست اور ایک سادہ سا کھیل بھی خوشی کا سبب بن سکتا ہے۔
بچپن کی سب سے قیمتی چیز کیا تھی؟
شاید بچپن کی سب سے قیمتی چیز کوئی کھلونا یا کھیل نہیں تھا۔ اصل دولت وہ بےفکری، دوستی اور وقت تھا جو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملتا تھا۔
ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ چند سال بعد یہی گلیاں یاد آئیں گی۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ایک دن وہ دوست اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو جائیں گے۔
ہم بس کھیلتے تھے، ہنستے تھے اور ہر دن کو پورے دل سے جیتے تھے۔
وہ دن شاید واپس نہ آئیں، مگر یادیں آج بھی زندہ ہیں
بچپن کے وہ کھیل آج شاید ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ نہ ہوں، مگر ان سے جڑی یادیں اب بھی دل کو مسکرا دیتی ہیں۔
گلی کرکٹ، کنچے، چھپن چھپائی، گلی ڈنڈا، پٹھو گرم، لنگڑی ٹانگ اور دوستوں کے ساتھ گزاری ہوئی وہ لمبی شامیں ہماری زندگی کی ایسی یادیں ہیں جنہیں وقت بھی مٹا نہیں سکتا۔
شاید آج ہمارے پاس پہلے سے زیادہ سہولتیں ہیں، مگر کبھی کبھی دل اب بھی اسی پرانی گلی میں واپس جانا چاہتا ہے جہاں چند دوست انتظار کر رہے ہوتے تھے اور صرف ایک سوال ہوتا تھا:
کیونکہ وہ صرف کھیل نہیں تھے۔۔۔ وہ ہمارا بچپن تھا۔